• sajidbutt

Studying Persian- Sir Ghulam Rasool

چھٹی جماعت میں، پاکستان کے مذہبی اور تاریخی ورثے کے تناظر میں، طلبا کو عربی یا فارسی میں سے ایک زبان بطور اختیاری مضمون کے چننا تھی۔ عمومی خیال تھا کہ فارسی آسان زبان ہے اس لئیے چار میں سے تین طلبا فارسی ہی کا انتخاب کرتے۔ اس لئیے سال ششم کے تین سیکشن فارسی پڑھتے اور ایک ایکشن، ڈی، عربی۔ ہمیں فارسی پڑھانے کے لئیے جو ٹیچر مختص ہوئے، ان کا نام سر غلام رسول تھا۔ سر کی سخت گیری تمام سکول میں مشہور تھی۔ لمبے تڑنگے، مضبوط جثے کے مالک۔ رنگت پکی، سیاہ کھچڑی نما تیل لگے بال۔ صبح صبح اپنے سرخ یاماہا موٹر سائیکل پر سکول تشریف لاتے۔ اس موٹرسائکل کے لیگ گارڈز بادبان کی شکل کے تھے۔ اس سے لامحالہ موٹرسائیکل کی تیل کی کھپت بڑھ جاتی ہو گی، لیکن سردیوں میں ٹھنڈ سے بھی بچاتے ہوں گے۔ ہمیں اس موٹرسائیکل کی پہچان کا یہ فایدہ ہوتا کہ صبح کی اسمبلی کے فورا بعد ہی، موٹر سائیکل سٹینڈ کے ایک سرسری جائزے سے ہی پتہ چل جاتا کہ سر غلام رسول آئے ہیں، یا نہیں! ہمارا فارسی سے تعارف بہت واجبی انداز میں شروع ہوا۔ پہلا سبق تو سر کی بھاری بھرکم شخصیت کے اثر تلے ہی دب گیا۔ سر کی قد و قامت کسی ایتھلیٹ سے کم نہ تھی۔ ان کی شخصیت ایسی تھی ان کے کلاس میں داخل ہوتے ہی سب بچوں کو فورا علم ہو جاتا کہ سر کے ساتھ پنگا کرنے کا نئیں ! گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے آخری دن تھا۔ تمام اساتذہ باری باری ہمیں چھٹیوں کا کام دے رہے تھے۔ فارسی کا پیریڈ شروع ہوا تو سر غلام رسول نہیں آئے۔ ہم لوگوں نے معمول کے مطابق، فری پیریڈ سمجھتے ہوئے گپیں ہانکنا شروع کر دیں۔ پیریڈ ختم ہونے سے پندرہ منٹ قبل، اچانک سر کا طویل قامت جثہ نمودار ہوا اور ان کے کلاس میں داخل ہوتے ہی، سب خاموشی سے اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ سر ذرا جلدی میں تھے۔ پانچ منٹ میں انہوں نے ہمیں کام لکھوایا اور کلاس سے جانے لگے۔ مجھے کام کے بارے میں کچھ کنفیوژن تھا۔ میں نے ہاتھ کھڑا کیا، "ایکسکیوز می سر!" سر، جو تقریبا کلاس سے نکل ہی چکے تھے، ناگواری سے رکے۔ اور میری طرف ذرا جارحانہ انداز میں بڑھے۔ درشتگی سے مخاطب ہوئے، "کیا مسئلہ ہے؟" "سر، یہ جو پیرا گرافس کا اردو ترجمہ کرنا ہے، ان کا اصل فارسی متن بھی کاپی میں نقل کرنا ہے؟" سوال معصومانہ (او کے! کسی قدر بیوقوفانہ) تھا۔ لیکن دس سال کا بچہ تھا ۔ بچوں جیسی بات نہ کرتا تو کیا کرتا! سر، نے اپنی بھاری آواز میں قدرے غرا کر کہا، "اور کیا فارسی میں نہیں لکھنا تو کیا انگریزی میں لکھنا ہے!" اور اس کے ساتھ ہی، میرے چہرے پر سر کے بھاری بھرکم ہاتھ کا پڑا زوردار طمانچہ! دھم سے میں اپنی کرسی پر گرا۔ ایک تو میں یہ تھپڑ ایکسپیکٹ نہیں کر رہا تھا۔ دوسرے سر دیکھتے بائیں جانب تھے جب کہ ان کا مخاطب بیس ڈگری دائیں طرف ہوتا۔ اس لئیے میں مکمل طور پر غیر ریڈی تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے میری دنیا ہی ماوف ہو گئی ہو! پوری جماعت میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ اس زناٹے دار طمانچے کے بعد، سر تو بگولے کی طرح کلاس سے چلے گئے۔ مجھے میرے ساتھیوں نے اٹھایا اور دلاسہ دیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی، آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے۔ ذلت اور جسمانی تکلیف کے ملے جلے احساس میں یہ سبق سیکھا کہ سر غلام رسول سے کبھی کوئی سوال نہیں کرنا ! +++++++++++++++++++

سال ششم کا گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد کا دور تو بھٹو صاحب کی پی ٹی شو کے سپرد ہو گیا۔ سن ستتر کے موسم بہار میں ہم ایک چمکیلی صبح، سر افسر کی قیادت میں جماعت ہفتم کے بلاک میں شفٹ ہو گئے۔ یہ بلاک کافی عمیق سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر واقع تھا۔ برآمدے کے ساتھ کمروں کی ایک قطار تھی۔ برآمدے کو ایک جھروکوں والی آدھی دیوار سے بند کیا گیا تھا۔ جھروکوں کے اوپر چھوٹے چھوٹے روشن دان بھی تھے۔ ان روشن دانوں میں چڑیوں نے گھونسلے بنا رکھے تھے۔ ان جھروکوں سے مال روڈ اور ساتھ والے لڑکیوں کے سکول اور سرسید کالج کے لان اور بلڈنگ کا اچھا نظارہ دیکھنے کو مل سکتا تھا۔ اسی نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے، ہم خوشی خوشی اپنی نئی جماعت میں بیٹھ گئے۔ سر غلام رسول تشریف لائے۔ چہرے پر وہی سختی۔ لہجہ ویسا ہی درشت۔ فرمانے لگے کہ تم لوگوں نے ششم میں تو کچھ پڑھا نہیں۔ اب ہفتم میں ڈبل کام کرنا ہو گا۔ تم لوگ اپنی فارسی کی کتاب کلیدِ مصادر نکال لو۔ صفحہ نمبر چار کھولو۔ ہم نے ہدایات پر عمل کیا۔ اس صفحے پر ایک جدول بنا ہوا تھا۔ پہلے کالم میں اردو لفظ ، اس کے برابر اس کا فارسی ترجمہ اور تیسرے کالم میں اسی کا مصدر۔ فرمانے لگے، انہیں یاد کر لو۔ میں کچھ ہی دیر میں سنوں گا۔ حسب عادت، یہ واضح نہیں کیا کہ تینوں کالم یاد کرنے ہیں۔ میں نے فر فر تمام صفحہ یاد کر لیا۔ کچھ دیر کے بعد، سر کسی کام سے باہر چلے گئے۔ ہم لوگوں نے حسب معمول گپیں ہانکنا شروع کر دیں۔ تھوڑی دیر بعد، سر واپس آن دھمکے۔ ہمیں شور مچاتا دیکھ کر ناراض ہوئے۔ کچھ ڈانٹ ڈپٹ ہوئی۔ جب سب خاموش ہو گئے تو ندیم حیدر سے پوچھا، "کتنے الفاظ یاد کئیے؟" ندیم نے اعتماد سے جواب دیا، "سر، چار یاد کیے ہیں". "سناؤ!" حکم آیا۔ ندیم نے پہلا لفظ اور اس کا مطلب سنایا۔ درست سنایا۔ "مصدر؟" اب ندیم کے اوسان خطا ہوگئے۔ "سر وہ تو یاد نہیں کئیے!" اس پر سر نے استفسار کیا کہ کیا ندیم کے خیال میں مصادر کوئی اور طلبا ان کے لئیے یاد کریں گے؟ ہم سب کے بھی ہاتھوں کے طوطے اڑے۔ کہ مصادر تو کسی نے بھی یاد نہ کئیے تھے۔ ہماری اجتماعی نالائقی کی سزا بہرحال صرف ندیم حیدر ہی کو ملی۔ فرض کفایہ تو سن رکھا تھا۔ سزائے کفایہ والا فلسفہ اس دن سمجھ آیا !




5 views0 comments

Recent Posts

See All